
کیوں باتھ روم میں استعمال ہونے والے ہیٹر ٹیوبوں میں سستی کی گنجائش نہیں ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ باتھ روم، الیکٹرانک آلات کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ وہاں ہر جگہ بھاپ موجود ہوتی ہے، نمی بہت زیادہ ہوتی ہے، اور اگر آپ شاور کے قریب انفراریڈ ہیٹر رکھیں، تو دراصل آپ پانی کو چیزوں کو خراب کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔
عام کوارٹز ٹیوبیں اس صورتحال کا مقابلہ نہیں کر سکتیں؛ وہ ٹوٹ جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر، تصور کریں کہ کوارٹز ٹیوب 800 ڈگری سیلسیس تک گرم ہو جاتی ہے۔ اب تصور کریں کہ ایک ٹھنڈا پانی کا قطرہ اس ٹیوب پر گرتا ہے۔ درجہ حرارت کا فرق اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ٹیوب نہ صرف ٹوٹ جاتی ہے، بلکہ چھوٹے ٹکڑوں میں بھی بٹ جاتی ہے۔
اسی لئے ہم دھماکہ سے محفوظ ٹیوبوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ کوئی جادو نہیں ہے؛ عام طور پر ان ٹیوبوں کو سیفٹی میش یا مضبوط کوٹنگ سے ڈھکا جاتا ہے۔ اگر اندرونی شیشہ ٹوٹ جائے، تو بیرونی پرت ٹکڑوں کو روک لیتی ہے، تاکہ وہ کسی کے اوپر نہ گریں۔
جہاں تک حرارت کی بات ہے، ہم شارٹ-ویو انفراریڈ ہیٹروں کا استعمال کرتے ہیں۔ مجھے یہ بہت پسند ہے، کیوں کہ یہ کمرے کی ہوا کو گرم کرنے میں وقت ضائع نہیں کرتے؛ بلکہ حرارت فوراً ہی جلد تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص سورج کی کرنوں میں کھڑا ہو۔ ٹیوب کے اندر، ٹنگسٹن فلامنٹ کو ویکیوم یا ہیلوجن میں رکھا جاتا ہے، تاکہ وہ آکسیڈیشن کی وجہ سے جل نہ جائے۔
لیکن آپ ان ٹیوبوں کو کسی بھی عام فکسچر میں استعمال نہیں کر سکتے۔ آپ کو ایسا فکسچر درکار ہے جو نمی کو باہر رکھ سکے۔ اگر سیلز سستے ہوں اور پانی رسنے لگے، تو برقی ٹرمینلز خراب ہو جائیں گے۔ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔
ایک چھوٹی سی پریشانی یہ بھی ہے کہ یہ سیفٹی کوٹنگ حرارت کو تھوڑا کم کر دیتی ہے – شاید 5% سے 10% کم۔ کیا یہ نقصان ہے؟ ہاں، لیکن میں تو ایسے لیمپ کو ہی پسند کروں گا، جو باتھ روم میں دھماکہ نہ کرے۔
اور براہ کرم، GFCI سرکٹ کا استعمال ضرور کریں۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے آپ کسی حادثے کے خطرے کے بغیر اسے استعمال کر سکتے ہیں۔